Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2مارچ1998
موجودہ زمانہ کے مسلم علماء اور رہنماؤں میں یہ جذبہ نہیں ابھرا کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔اس معاملہ میں جس سے بھی بات کی جائے وہ ایک ہی جواب دیتا ہے۔ وہ یہ کہ جب تک مسلمانوں کی اصلاح نہ ہوجائے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف نہیں لایا جاسکتا ان کے نزدیک مسلمانوں کا غیر اصلاح یافتہ ہونا اسلام کی عمومی اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ ایک غلط مفروضہ ہے مسلمانوں کی داخلی اصلاح کبھی بھی معیاری معنوں میں مکمل نہیں ہوسکتی تھی کہ دورادنیٰ میں بھی نہیں پچھلے ہزار سالوں میں مسلمان کبھی بھی معیاری معنوں میں اصلاح یافتہ نہ تھے اس کے باوجود اسلام کی توسیع و اشاعت مسلسل جاری رہی۔
اسلام کی توسیع صرف موجودہ زمانہ میں رکی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے وہ یہ کہ مسلم رہنماؤں نے اسلام کے نام پر جگہ جگہ متشدادانہ تحریکیں شروع کردیں جدید میڈیا اپنے مزاج کے مطابق تشدد کے واقع کو سب سے زیادہ قابل رپورٹ سمجھتا ہے چنانچہ میڈیا نے اسلامی تشدد کے نام پر ان واقعات کو مسلسل رپورٹ کرنا شروع کردیا اس طرح جدید میڈیا کے ذریعہ اسلام کی جو تصویر لوگوں کے سامنے آئی وہ نفرت اور تشدد کی تصویر تھی۔ اور دنیا کو نفرت اور تشدد والے مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں۔
اس صورت حال کی ذمہ داری عام طور پر میڈیا پر ڈالی جاتی ہے مگر اس کی ذمہ داری تمام تر صرف مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں پر ہے جو لوگ تھے جنہوں نے تشددانہ شروالا کو تخلیق کیا۔ میڈیا تو صرف ان خبروں کی رپورٹنگ کی ذمہ دار ہے نہ کہ ان خبروں کے وجود میں ہونے کا۔
یہ فرض کہ درجہ میں ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر نفرت اور تشدد کی تمام سرگرمیوں کو یکطرفہ طور پر ختم کردیا جائے، تاکہ اسلامی دعوت کی راہ ہموار ہوسکے اور اسلام کا سیلاب پہلے کی طرح دوبارہ رواں دواں ہوجائے۔