Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19دسمبر1998
قرآن میں بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو پیدا کیا اور اس کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے زمین میں آباد کرنے کا اعلان کیا تو فرشتوں نے کہا کہ توزمین میں ایسے لوگوں کو بساتا ہے جو وہاں فساد کرے اور خون بہائے۔ جب کہ ہم تیری حمد اور تقدیس کررہے ہیں۔ (البقرہ)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے جواب پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ حمد وتقدیس ہی اصل مطلوب الہی ہے۔ انسان کو پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ حمد وتقدیس کے اس عمل کو آزادانہ طور پر کرے جس کو فرشتے مجبورانہ طور پر کررہے ہیں۔ انسان کو جانچنے کا معیار بھی ملکوتیت ہی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ تمام فرشتے جس ملکوتیت کا ثبوت پابندی کے ماحول میں دے رہے ہیں۔ انسان اسی ملکوتیت کا ثبوت آزادی کے ماحول میں دے وہ قدرت رکھنے کے باوجود زمین میں فساد سے اپنے آپ کو بچاے اور دوسروں کا خون بہانے سے بامقصد باز رہے۔