Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26مارچ1998
حدیث میں آیا ہے کہ: من کٹرسوادقوم فھو منھم (جو شخص کسی گروہ کی تعداد بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے) امام بخاری نے بعض احادیث کے اوپر ایک ترجمہ اب ان الفاظ میں قائم کیا ہے: باب من کرہ ان پکٹر سوارالفتن والظلم یعنی احباب فتنہ اور اصحاب ظلم کی تعداد بڑھانے کی کراہت (البخاری، کتاب الفتن)
اس حدیث میں جس مکروہ فعل کا ذکر ہے اس کی مختلف قسمیں ہیں اس کی ایک قسم جو موجودہ زمانہ میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان دیہی قومی اغراض کے لیے بری بڑی تحریکیں اٹھاتے ہیں یہ تحریکیں زیادہ تر کسی مفروجہ مسلم دشمنی طاقت کے خلاف ہوتی ہیں ان تحریکوں کے تمام آثار یہ بتاتے ہیں کہ وہ جاہل جذبات کے تحت اٹھی ہوئی تحریکیں ہیں مگر چونکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اس کی دھوم میں شامل ہوجاتی ہے اس لیے عملاً یہ صورت بن جاتی ہے کہ کوئی مسلمان اگر ان تحریکوں میں شریک نہ ہو تو اس کے لیے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ ملت سے کٹ جاتا۔ چنانچہ بہت سے علماء اور سنجیدہ افراد بھی اس خطرہ کے پیش نظر ان تحریکوں میں بادل خواستہ بظاہر شریک ہوجاتے ہیں تاکہ ان کا نام بھی قوم کے رجسٹرمیں درج رہے مجھے شبہ ہے کہ ایسے تمام لوگ بھی مذکورہ حدیث کا مصداق قرار پائیں گے۔