Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16جنوری1998
1947سے پہلے پاکستان تحریک کے حامی یہ نعرہ لگاتے تھے کہ: پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے اسلام پسند دانشوروں نے ایک نئی اصطلاح وضع کی جس کو وہ پرجوش طور پر نظریۂ پاکستان کہتے تھے۔سید ابوالاعلی مودودی جو وہاں معاذاسلام کے علم بردار تھے، انہوں نے مزید جوش و خروش کے ساتھ کہا کہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہوچکا ہے مگر پچھلے پچاس سال کی دھواں دھار کوشش کے باوجود وہاں ایک فیصد بھی اسلام کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔
یہی معاملہ ایک اور شکل میں ہندوستان میں پیش آیا یہاں کے ہندوؤں کے ایک طبقہ کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا ہر شہری ہندو ہے ہندوستانیت کی تعبیر انہوں نے چند شعر کے لفظ سے کی انہوں نے کہا کہ ہندوستانی قومیت کا لازمی جزء بھارتیہ سنسکرتی بھی ہے مگر آج یہ سب کچھ تقریباً ختم ہوچکا ہے ان نظریات کے سب سے بڑی علم بردار بھارتیہ جنتا پارٹی آج وہی الفاظ بول رہی ہے جو اس کی حریف سیکولرپارٹیاں بولتی تھیں۔
کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جو انجام اسلامی نعرہ کا ہوا وہی انجام ہندوستان میں غیر اسلامی نعرہ کا بھی ہوا، اس کا راز یہ ہے کہ نعرہ بازی کی سیاست سے اس دنیا میں نہ اسلام قائم ہوسکتا اور نہ کہ اجتماعی زندگی میں کسی نظام کو قائم کرنے کے لیے بے حد سنجیدہ کوشش درکار ہے اور اس قسم کی سنجیدہ کوشش نہ پاکستان کے اسلام پسند کرسکے اور نہ بھارت کے ہندتوپسند۔