Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27مارچ1998
19مارچ کو ایجوکیشن منسٹری (نئی دہلی) کے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کا موضوع موت کے بعد آنکھ کا عطیہ دینے کے بارے میں تھا۔ اس میں میڈیکل ایکسپرٹ بلائے گئے تھے نیز مذہبی رہنماؤں کو بھی مذہبی اعتبار سے رائے دینے کی دعوت دی گئی تھی۔ مجھے اسلام کا نقطۂ نظر بتانے کے لیے اس میں بلایا گیا تھا۔
میں نے کہا کہ اسلام کا ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ الاشیاء فی الاصل الاباجۃ۔ یعنی اس دنیا میں ہر چیز اصلاً جائز ہے جب تک کہ اس کو شریعت میں ناجائز نہ قرار دیا جائے:
Everything is lawful unless it is declared unlawful.
میں نے کہا کہ موت کے بعد آنکھ یا کسی اور عضو کا عطیہ زندہ انسانوں کے لیے دینا اسلام میں منع نہیں کیا گیا ہے اس لیے اس کو جائز سمجھا جائے گا۔ مزید یہ کہ وہ ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اس طرح ایک آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ موت کے بعد بھی اس کی نفع بخشی کا سلسلہ جاری رہے۔
اسلام میں مثلر سے منع کیا گیا ہے مگر آنکھ کا عطیہ کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ مردہ کا مسئلہ یا اس کو disfigureکرنا نہیں ہے۔ کیونکہ مثلہ کا مقصد مردہ کی توہین ہوتا ہے۔ جبکہ آنکھ کے عطیہ میں تو توہین کا پہلو نہیں ہوتا مردہ کے جسم میں کوئی عیب واقع نہیں ہوتا۔ کیونکہ آنکھ نکالنے کے فوراً بعد وہاں مصنوعی آنکھ لگادی جاتی ہے۔ یہ کام اس طرح کیا جاتا ہے کہ دیکھ کر کوئی آدمی اندازہ نہیں کرسکتا کہ اس کی آنکھ نکالی گئی ہے۔