Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
31اگست1998
حکیم افہام اللہ صاحب انہونہ (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ 6اگست1998کو اپنے وطن ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ علی گڑھ کے طیبہ کالج میں پرنسپل بھی رہے۔ علی گڑھ میں چند یاد ان سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ اس طرح بتایا تھا۔
ان کے گاؤں میں کچھ لوگ ہربناجد ان کے دشمنی ہوگئے۔انہوں نے چاہا کہ حکیم صاحب کو قتل کرادیں۔ حکیم صاحب نے بتایا کہ وہ گاؤں سے قریبی ریلوے اسٹیشن پیدا جایا کرتے تھے۔ اکثر گھر اور علی گڑھ کے درمیان انہیں اسی ریل سے سفر کرنا ہوتا تھا۔ علی گڑھ سے واپسی کے لیے جو ٹیرن تھی وہ شام کو ان کے اسٹیشن پر پہنچتی تھی۔ وہاں سے گھر آتے آتے رات ہوجاتی تھی۔ ان کے دشمنوں نے یہ کیا کہ گاؤں کے ایک غریب آدمی کو کچھ رقم دے کر تیار کیا کہ وہ ایک گڈاسہ لے کر گاؤں کے باہر واقع پل کے پاس چھپ جائے۔ اور جب حکیم صاحب اسٹیشن سے آتے ہوئے وہاں پہنچیں تو وہ اچانک نکل کر حکیم صاحب کو مار ڈالے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا جب آدمی جھاڑی سے نکل کر گڈاسہ لیے ہوئے حکیم صاحب کے سامنے آیا تو وہ فوراً معاملہ کو سمجھ گئے۔ انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ ایک منٹ کے لیے میری بات سنو وہ آدمی رک گیا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ کیا تم کو وہ دن یاد نہیں کہ جب تم اپنے چھوٹے بچے کو جھوا میں رکھ کر میرے مطب میں آئے تھے۔ تمہارا بچہ سخت بیمار تھا اور تمہارے پاس علاج کے لیے پیسہ نہیں تھے۔ میں نے مفت میں علاج کیا اور تمہارا بچہ اچھا ہوگیا۔ اب کیا میرے سلوک کا یہی بدلا ہے کہ تم مجھ کو مارڈالنا چاہتے ہو۔ اس آدمی نے کہا کہ مجھ کو وہ دن یاد ہے۔ اس کے بعد گڈاسہ پھینک کر وہ حکیم صاحب کے قدموں پر گرپڑا۔ اس نے کہا کہ حکیم صاحب مجھ کو چھماکیجئے۔ فلاں آدمی نے پانچ سو روپیہ دے کر مجھ کو ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی فطرت ہر دوسری چیز پر غالب آتی ہے۔