Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27اپریل1998
میں24اپریل1998کو اندور (کستورباگرام) آیا تھا۔ 27اپریل کو وہاں سے واپس آیا۔ کستورباگرام میں ایک آل انڈیا سمینار تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا۔21ویںصدی کے لیے نئی قیادت کی تشکیل:Developing new Leadership for 21st century
روانگی سے پہلے میں نے سمینار کے منتظمین (سوامی اوم پورن سوتترا، ڈاکٹر شیو کمار پودار) سے کہا کہ مجھے آپ اس سمینار میں نہ بلائیں۔ کیوں کہ میرے خیالات ناقائدانہ ہیں۔ آپ مہاتما گاندھی کے ریفرنس میں یہ موضوع رکھ رہے ہیں اور میں مہاتما گاندھی ، ناعدہ انہوں نے کہا کہ آپ ضرور آئیے اور اپنے خیالات وہاں رکھے۔ میں نے بار بار معذرت کی مگر وہ لوگ اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے اس میں شریک ہونا پڑا۔ وہاں میری تین تقریریں ہوئی۔ں میں نے مہاتما گاندھی پر کھلی تنقید کی۔ یہ سمینار اگرچہ گاندھیائی سنٹر میں تھا اور ملک کے مختلف حصوں سےآنے والے دوسو ہندو سب سے سب مہاتما گاندھی سے متاثر تھے۔ مگر کسی ایک شخص نے بھی میری باتوں کو برا نہیں مانا۔ ہر ایک نے غیر معمولی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ سوامی اوم پورن سوتترا جو کہ سمینار کے صدر تھے انہوں نے میںی تقریر کو ونڈرفل بتایا۔ ڈاکٹر شیوکمار بوڈار (آرنکر) نے کہا کہ اب تو ہم آپ ہی کے ہوگئے۔ ایک ہندو نوجوان میرے پاس آیا۔ اور خاموشی سے یہ سلپ دے کر چلا گیا:You Are a Jogi!
مسلمانوں میں جب لوگوں کو مہاتماگاندھی جیسا درجہ حاصل ہے میں نے ان کے بارے میں کئی بار مسلمانوں کے جلسہ میں تنقید کی تو لوگ بری طرح بھپر اٹھے اور اگر کوئی ہندو مسلمانوں کے جلسہ میں جاکر ان کے وقار پر تنقید کرے تو شاید اس کا صحیح سلامت واپس آنا ہی مشکل ہوجائے۔ میں میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ وہ اپنے مفروضہ اکابر کے خلاف تنقید کو فوراً نہیں کرتے۔