Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24اگست1998
محدث ابوداؤد نے اپنی کتاب میں حضرت معاذ بن جبل کی ایک تقریر نقل کی ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے: فان الشیطان قد یقول کلمۃ الضلا لۃ علی لسان الحکم وقد یقول المنافق کلمۃ الحق (سنن ابی داؤد201/4)یعنی شیطان کبھی حکیم کی زبان سے گمراہی کی بات بولتا ہے۔ اور کبھی منافق ایک حق کی بات کہتا ہے۔
کوئی شخص حکیم یا مفکر کی حیثیت سے مشہورہوجائے تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ شیطان کوئی غلط بات اس کی زبان سے کہلادے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کے معیار پر جانچے بغیر کسی کی بات قبول نہ کی جائے۔ اسی طرح ایک منافق بھی حق و صداقت کی بات کہہ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی شخص اگر بظاہر حق وصداقت کی بات بول رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ شخص منافق نہیں ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص جو اتنا بڑا مفکر ہے وہ کوئی غلط بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ پابندی شخص جو اتنی اچھی اچھی باتیں کررہا ہے وہ منافق کیسے ہوسکتا ہے۔ مگر صحابی کے مذکورہ قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ دونوں ہی خیال سراسر بے بنیاد ہیں۔