Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12جون 1998
ایک مسلمان پروفیسر میری تحریریں پڑھتے ہیں مگر وہ میرے مخالف ہیں۔ وہ ہمیشہ اس کو گھٹیاکر بیان کرتے ہیں۔ ایک بار ایک صاحب نے ان کے سامنے میری تحریروں کی تعریف کی انہوں نے کہا کہ ان کی تحریروں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر چیز میںآخرت کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ مذکورہ پروفیسر نے جواب دیا کہ : وہ ایک آرٹسٹ ہیں جس نے آخرت کو اپنے آرٹ کا موضوع بنایا ہے۔
یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک سچا آرٹسٹ جب کسی چیز کو اپنے آرٹ کا موضوع بناتا ہے تو اس کے لیے آواز نہیں بلکہ آمدہوتی ہے۔ یہ دراصل اس کے حقیقی تجربات ہوتے ہیں جب کہ وہ آرٹ میں مشکل کرتا ہے۔ اسی طرح توحید یا آخرت کے بارے میں جو کچھ میں لکھتا ہوں وہ میرے حقیقی تجربات ہوتے ہیں۔ یہ ایک روحانی دریافت ہوتی ہے جس کو میں بعد کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتاہوں۔ اگر میری تحریروں کو ’’آرٹ‘‘ کہا جائے تویہ میرے روحانی تجربات کا ایک ضمنی حاصل (Bypiodnet)ہوگا نہ کہ اس قسم کی کوئی چیز جس کو عام طور پر پروفیشنل آرٹ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ پروفیسر اگر یہ کہتے تو ان کا تبصرہ صحیح ہوسکتا تھا کہ ان کے جو تجربات (Experience)ہیں وہ آرٹ میں ڈھل جاتے ہیں۔