Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15جون1998
مولانا کبیر الدین فاران سِسّروالا (ہماچل پردیش) کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار میں ایک بستی میں آگ لگگئی۔ بیشتر مکانات جل گئے۔ اس بستی میں مسلمانوں کے ساتھ کئی گھر برہمن کے بھی تھے۔ میں وہاں 25ہزار کی امدادی رقم لےکر گاؤں میں پہنچا۔ اس میں سے دس ہزار روپیہ میں نے مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا اور15ہزار روپیہ برہمنوں کو دیا۔ مگر برہمنوں کو امداد کے نامر پر رقم دینا مناسب نہیں تھا۔ میں نے یہ کیا کہ کہ میں برہمنوں کے یہاں گیا۔ ان سے بات کی اور کہا کہ ہم آپ کے یہاں چائے پینے کے لیے آئے ہیں۔ وہ بہت خوش ہوئے اور مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو محبت کےس اتھ چائے پلائی۔ اس کے بعد میں نے ان کے بچوں ، مردوں اور عورتوں کسے دوستانہ انداز میں باتیں کیں۔ اور کسی کو500روپیہ دیا اور کسی کو ہزار روپیہ اس طرح پندرہ ہزار روپیہ ان لوگوں کو دے دیا۔ برہمن لوگ تعجب انگیز خوشی کے ساتھ اس منظر کو دیکھتے رہے اور سینئر برہمن نے کہا: مسلمان اگر مسلمان ہو جائیں تو بھارت میں ایک ہندو نہیں رہے گا۔