Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25ستمبر1998
سیلم (تامل ناڈو) کے مولانا حکیم محمد صفدر شریف دو اور تبلیغی ساتھیوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان سے الامۃ کے بارے میں گفتگو ہوئی جس نے فروری1998میں کوئمبٹور میں ایل کے ایڈوانی کے انتخابی جلسہ میں بم مارا تھا اور جلسہ کو ناکام بناکر بہت خوش ہوئے تھے۔ حکیم صاحب نے بتایا کہ الامۃ کا لیڈر ایسن باشا صاحب کو میں اچھی طرح جانتا ہوں اور کئی بار ملا ہوں۔ وہ ایک جاہل آدمی ہے مگر غیر معمولی بہادر ہے۔ وہ پہلے تبلیغی جماعت میں لگام اٹھا۔ بعد میں6دسمبر1992کو بابری مسجد کے ڈھائے جانے کے بعد اس کے ذہن میں تبدیلی آئی۔ اس نے کہنا شروع کیا کہ تبلیغ جیسے کام سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔
اس نے الامۃ نام کی ایک خفیہ جماعت بنائی۔ بہت سے مسلم نوجوان اس سے جڑگئے۔ یہ لوگ باہر سے کافی پیسہ لاتے اور بڑی تعداد میں بم بنایا۔ مگر ایڈوانی کے مذکورہ جلسہ کے بعد پولس نے کوئمبٹور اور اس کے اطراف کی زبردست تلاشی لی اورگھروں سے سارے بم برآمد ہوگئے۔ پولس نے الامۃ کے بیشتر ممبروں کو گرفتار کرلیا۔ کچھ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ ان میں سے کچھ کو پولس نے مارڈالا اور بہت سے جیلوں میں بند ہیں۔ ایڈوانی کے جلسہ میں بم پھینکنے کے بعد کوئمبٹور میں زبردست فساد ہوا۔فرقہ پرست ہندوؤں نے مسلمانوں کی دکانیں جلائیں۔ گھروں کو لوٹا۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر مسلمانوں کا کم ازکم50کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔اس فساد میں کوئمبٹور کے مسلمانوں کوجو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی5سال میں بھی ہونے والی نہیں۔الامۃ والے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ہندو تشدد کا جواب مسلم تشدد ہی سے دیا جاسکتا ہے۔ مگر آج نہ الامۃ کے نوجوانوں کا کہیں پتہ ہے اور نہ ان کے بنائے ہوئے بموں کا۔ تشدد کے جواب میں تشدد کے فلسفہ نے مزید تباہی کے سوال مسلمانوں کو کچھ اور نہیں دیا۔