Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6جون1998
دوفلسطین نوجوان ملاقات کے لیے آئے ان کے نام یہ ہیں جہاد محمد، احمد محمد اعتقاف یہ دونوں دہلی میں بطور طالب علم رہے ہیں۔ Tel;6914243گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں اس وقت ہرایک بار فلسطینی نوجوان رہتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف کا تعلق حماس سے ہے۔ یہ لوگ یاسرعرفات کے بجائے احمد یاسین کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے فلسطینیوں کے اس موقف کو دہرایا کہ: القدس لنا (قدس ہمارا ہے) میں نے کہا کہ بالفور منصوبہ کے تحت پورا قدس آپ کو مل رہا تھا اور اسی کے ساتھ فلسطین کو دو تہائی حصہ بھی پھر آپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو برطانی احتلال کے تحت تھا، اور آپ جانتے ہیں کہ گاندھی اور ابوالکلام آزاد نے برطانی احتلال کے ساتھ کوئی چیز قبول نہیں کیا اسی طرح ہم نے بھی نہیں کیا یہ بات درست نہ تھی تاہم میں نے اس پر بحث نہ کرتے ہوئے کہا کہ گاندھی نے اپنی تحریک عدم تشدد کی بنیاد پر جلائی اور پچاس سال پہلے کامیاب ہوگئے۔ آپ اس کے برعکس اپنی تحریک تشدد کی بنیاد پر چلا رہے ہیں اس لیے ناکام ہیں۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ: ان اللہ یوطی علما الرفق مان یو علی الصنف انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں سے مسلمہ قتال کیا میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، مسلح قتال اس وقت ہے جب کہ آپ کو قوت درجہ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزوہ بدر میں کہا قوت مرہبہ تھی میں نے کہا کہ غزوہ بدر میں تو قوت مرھبہ سے بھی بہت بڑی طاقت تھی۔ کیوں کہ غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے اھل ایمان کی مدد کے لیے انہیں حجر مشتھ بڑی تعداد انا دیتے تھے۔ اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں مگر انہوں نے آخر وقت تک اعتراف نہیں کیا(یہ پوری گفتگو عربی میں ہوئی)