Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15ستمبر1998
سرسید کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غدر1857کے بعد ان کی پالیسی یہ تھی کہ ہندوستان کے مسلمان سیاست سے مکمل طور پر دور رہیں۔ حتیٰ کہ اس معاملہ میں کچھ لوگ ان کو انگریزوں کا ایجنٹ بتاتے تھے۔مگر مولانا شبلی نعمانی جو سرسید کے ہم عصر تھے انہوں نے ایک مضمون (شائع شدہ1912)میں اس کی تردید کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ سرسید کا ترک سیاست کا نظریہ خود ایک سیاست تھا، وہ گہرے سیاسی تدبیر پر مبنی تھا۔ مولانا شبلی نے لکھا تھا کہ جو لوگ سرسید کے مختص الحالات فقرات پیش کرتے ہیں، انہوں نے سرسید کے پولیٹکل شاہنامہ میں سے جن صرف: نیترہ سخم یادرکھا ہے(مقالات شبلی160/8)
مولانا شبلی کی اس عبارت میں منبزہ کاحوالہ بطور تلمیع ہے۔ یہ شاہنامہ فردوسی کے حسب ذیل شعر سے لیا گیا ہے: