Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17جون1998
کشمیر کی حکومت12ربیع الاول کی سیرت کے موضوع پر ایک حلسہ کررہی ہے۔ یہ جلسہ سرینگر حضرت بل میں ہوگا۔ وہ لوگ مجھے اس جلسہ میں خطاب کرنے کے لیے مدعو کررہے ہیں۔ مگر سرینگر سے جناب عبدالرحمن کو نہرو اور جناب حکیم اللہ خاں کے ٹیلی فون آئے کہ آپ اس میں شرکت نہ کریں کیوں کہ اس سے آپ کی امیج خراب ہوگی۔
میرے نزدیک یہ طرز فکر درست نہیں۔ سوچنے کی بات یہ نہیں ہے کہ اسٹیج کس نےبنایا ہے۔ بلکہ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ کیاوہاں بلا شرط ہم اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ اگر بلا شرط اپنی بات کہنے کا موقع ہو تو ہر اسٹیج کو استعمال کرناچاہیے۔ اور امیج کے سوال کو اس معاملہ میں رکاوٹ نہیں بناناچاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی رسول اللہ کی ایک سنت ہے جس کو مسلمان نہیں جانتے۔ رسول اللہ نے مکہ میں ابوطالب کی حمایت کے تحت روکر دعوتی کام کیا۔حالانکہ وہ آپ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ ابوطالب کے مرنے کے بعد آپ نے مختلف قبائل میں جاکر کہا کہ مجھے اپنی حمایت میں لے لو تاکہ میں اپنا دعوتی مشن جاری رکھ سکوں۔ اس سلسلہ میں آپ نے مطعم بن عدس کی حمایت قبول کی۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں آپ تقریباً17مہینہ تک یہودیوں کے قبیلہ کو اپنا قبلہ بنائے رہے۔ حالانکہ اس کی وجہ سے یہودی کہنے لگے کہ محمد کا دین ہمارے ہی مذہب کا ایک فرقہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے خطرات کو اہمیت دینے کے بعد دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔ اس قسم کا ذہن شرک اسپرٹ کے خلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہر اس اسلین کو استعمال کیا جائے جہاں اپنی بات کہنے کا موقع ہو۔ رسول اللہ مکہ کے موسمی بازاروں میں جاکر بتایا کہتے تھے حالانکہ وہاں کھیل تماشے کا ماحول ہواتھا نہ کہ کوئی سنجیدہ ماحول۔