Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2دسمبر2000
حال میں ایک تقابل مطالعہ کے دوران ایک عجیب لغت منکشف ہوئی جن قوموں کے لوگ اسلام قبول کرکے مسلمانوں کی جماعت میں داخل ہوئے، ان میں اور ان کے پچھلے ہم مذہبوں کے درمیان ایک واضح فرق پایا جاتا ہے مثلاً کشمیر کے ہندودنیاوی اعتبار سے کافی ترقی یافتہ ہیں اس کے برعکس انہی ہندوؤں سے نکل کر جو لوگ مسلمان ہوگئے اور اب کشمیری مسلمان کہے جاتے ہیں، وہ کشمیری ہندوؤں کے مقابلے میں پسماندہ ہیں اس طرح ہندوستان کے ہندویہاں کے مسلمانوں سے دنیاوی معاملات میں آگے ہیں حالانکہ دونوں کبھی ایک قوم تھے یہ فرق امریکہ تک ہی موجود ہے جہاں مکمل آزادی ہے امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے مقابلے میں امریکی مقیم ہندو زیادہ ترقی یافتہ ہیں یہی فرق ہر قوم اور ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔
یہ مطالعہ کا ایک اہم موضوع ہے میری سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا سبب مسلمانوں کا زوال یافتہ معاشرہ ہے اسلام کے دور اوّل میں جو لوگ مسلمان ہوئے اسن کے لیے اسلام ایک نئی دریافت تھا ان کے ذریعہ جو مسلم معاشرہ بنا وہ فطری طور پر اعلیٰ افکار اور اعلیٰ کردار پر مشتمل تھا۔ مگر بعد کے زمانے میں جو لوگ مسلمان ہوئے اور اپنی قوم سے کٹ کر مسلمانوں کے معاشرہ میں داخل ہوئے تو یہاں سے ان کے لیے ایک زوال یافتہ معاشرہ تھا وہ اپنی قدیم قومی روایات سے کٹ چکے تھے اور مسلم معاشرہ اپنے زوال کے بنا پر زندگی کی صحت منداندازنہ دے سکا مسلم معاشرہ نے ان کو نماز، روزہ اور شعائر جیسی چیزیں توبھی ہیں مگر دنیاوی ترقی کے لیے جن صحت مند انداز کی ضرورت ہوتی ہے وہ زوال یافتہ معاشرہ میں موجودنہ تھیں اس لیے ان کو مل بھی نہ مل سکیں۔
بعد کے دور میں جو لوگ مسلمان ہوئے وہ زیادہ تر صوفیوں کے ذریعہ مسلمان ہوئے صوفیوں کے پاس وبرکت تو تھی مگر ان کے پاس علم و شعور کا سرمایہ نہ تھا اس لیے ان کے ذریعہ مسلمان ہونے والے علم وشعور میں آگے نہ بڑھ سکے۔ موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت بھی لوگوں کو جودین دے رہی ہے وہ برکت اور فضیلت والادین کو نہ کہ علم اور شعور والا دین اس لیے یہ صورت حال اسی تک باقی ہے۔