Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4جنوری2000
ایک روایت میں حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر سے کافی پہلے اٹھ جاتے تھے۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فان کنتُ مضفجعاً فحدثنی (اگر میںبیدار ہوتی تو مجھ سے بات کرتے تھے)
روایت کا یہ جزء مخصوص طور پر پیغمبر اور ام المومنین سے متعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک فطری حقیقت ہے۔ ہر انسان کی یہ ایک ضرورت ہے کہ اس کے قریب ایک شخص ہو جس سے انٹلکچول ایکسچنج کرسکے۔ اسی سلسلہ میں سب سے زیادہ کارآمد آدمی کی بیوی ہے۔ حضرت عائشہ کی فقاہت بہت مشہور ہے۔ ان کو تمام صحابہ میں رفقہ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ تقضہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں ممتاز تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے اس خصوصی تقفہ کا راز وہی ہے جس کا ایک اشادہ اوپر کی حدیث میں ملتا ہے۔ یعنی پیغمبر اسلام سے ان کا مسلسل فکری تبادلہ (Intellectual exchanage) جاری رہنا۔ اس قسم کا فکری تبادلہ کسی اور صحابی سے نہ ہوا اور نہ ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تفقہ میں کوئی اور صحابی حضرت عائشہ کے برابر نہ ہوسکا۔