Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15مئی2000
برادرم کوکب الباری ایک سفر کے بعد لوٹ کر واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کے درمیان آپ کے بارے میں عجیب و غریب غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اس پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں آپ کو دوباتوں کی نصیحت کرتاہوں۔ یہ نصیحت آپ دوسرے تک بھی پہنچادیں۔
ایک یہ کہ مسئلہ کسی دوسرے کا نہیں خود اپنا ہے۔ہر مسئلہ میں آپ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ فلاں شخص صحیح تھا یا غلط مگر یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ تم نے دوسرے کے بارے میں جو رائے قائم کی وہ سچ پر مبنی تھی یا جھوٹ پر مبنی تھی۔ آپ یہ حق رکھتے ہیں کہ آپ میری بات کو نہ مانیں مگر اس کو یہ حق ہرگزحاصل نہیں کہ آپ میرے بارے میں بے بنیاد رائے قائم کریں اور اس کو دوسروں تک پہنچائیں۔ کسی کو غیرثابت شدہ بات پر ملعون کرنا بلا شبہ اسلام میں عظیم۔۔۔۔۔۔۔ کی حیثیت رکھتا ہے۔
میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی کے بارے میں اچھی رائے دینا ہو تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر ۔۔۔۔۔۔ کے خلاف بری رائے کا اظہارکریں تو اس کے لیے آپ کے پاس قطعی قسم کی دلیل لازمی طور پر ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس لیے میرا طریقہ یہ ہے کہ میں جس کسی کے خلاف تنقید کرتاہوں تو اپنی تنقید کی بنیاد ہمیشہ شائع شدہ تحریر پر رکھتاہوں مگر کسی زبانی ۔۔۔۔ باتوں پر نہیں۔