Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14اکتوبر2000
آج عبداللہ صاحب (یدبھنی) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پڑوسی شہرناندیڑ میںسخت فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس میں ایک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر2000گنپتی کے جلوس کے موقع پر فساد شروع ہوا۔ گنپتی کے جلوس کے ساتھ بہت سے ہندو ایک مسلم محلہ سے گذرے۔ یہاں ایک مسجد تھی جس میں نماز جنازہ کی تیاری کی جارہی تھی۔ جلوس کے ساتھ لاؤڈاسپیکر پر ریکارڈنگ بھی ہورہی تھی۔ کچھ مسلمان باہر آئے اور انہوں نے کہا کہ یہ ہماری نمازجنازہ کا وقت ہے تم لوگ اپنا لاؤڈاسپیکر بند کردو۔ ہندوؤں نے لاؤڈاسپیکر بند نہیں کیا اس پر تیز تیز باتیں ہوئیں۔ یہاں تک کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے غصہ میں آکر لاؤڈاسپیکر کو پھینک دیا۔ جس کے بعد ریکارڈنگ بند ہوگئی۔ اس کے بعد ہندوسخت مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف فساد شروع کردیا۔تین دن تک لوٹ مار اور آگ لگائی جاتی رہی۔ بہت سے مسلم نوجوانوں کو پوکس پکڑکر لے گئی اور ان کو بند کردیا، وغیرہ۔
میں نے کہا کہ ناندیڑ کے مسلمان اگرچند منٹ کے لیے لاؤڈاسپیکر کی آواز پر صبرکرلیتے تو انہیں صبر کا ثواب ملتا اور وہ جان ومال کے نقصان سے بھی بچ پاتے۔ پر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی مسلم دنیا کا حال یہی ہے کہ انہوں نے صبرکی صفت کھودیا ہے۔ اس صورت حال کے سب سے بڑے ذمہ دار خود مسلمان ہی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ایک تبدیلی آئی تھی۔ موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہر ایک کو مکمل آزادی ہے۔ صرف ایک چیز کی آزادی نہیں اور وہ یہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اس جدید تبدیلی کی خبر بھی دی۔ مسلمان ساری دنیا میں اپنی اسی بے خبری کی قیمت اداکررہے ہیں۔ وہ چیز جس کو مسلم دشمنوں کا ظلم کہا جاتا ہے۔ وہ دراصل خود مسلمانوں کی اپنی بے شعوری کا نتیجہ ہے۔ مگر قابل ذکرمسلمانوں میں ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی نہیں معلوم اور مسلمانوں کو اس معاملہ میں صحیح نصیحت کررہا ہو۔