Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم نومبر2000
ریاض کے بڑی سبت روزہ العام الاسلام (7شعبان1421ھ 3نومبر2000)میں الدکتور عبدالقیوم رزرق کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: اثافی التفریق بین مبادتی الرسالہ و تصفات تعض المسلمین واشاذۃ ۔ اس انٹرویو میں دکتور رزدق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ویطل السبب الرئیسی نے سورہ فہم موضوع فہاد طودعم التمیز میں موقف الاسلام ذانہ وہیں تصرفات بعض المسلمین۔ یعنی اسلام کے تصور جہاد کے بارے میں جو غلط فہمی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کے موقف اور کچھ مسلمانوں کی کارروائیوں میں فرق نہیں کیا جائے۔
مجھے اس سے اتفاق نہیں۔یہ معاملہ معروفہم کا نہیں ہے بلکہ مئوفتوی کا ہے۔ دکتور رزدق نے جس چیز کو موافہم کہا ہے اس کا سبب کیا ہے۔ وہ دراصل اعلان کلام اس زوجہ کی بناپر پیدا ہواہے جس کامظاہرہ، کشمیر، فلسطین، افغانستان، چیچنا وغیرہ میں ہورہا ہے۔ ان کارروائیوں کو تمام علماء نے متفقہ طور پر جہاد قرار دیا ہے۔ اس حالت میں اس کو مودفہم کیسے کہا جاسکتا ہے۔ دکتور رزدق کو پہلے یہ کہنا چاہیے کہ عناصر کے تمام فتوے غلط ہیں اور ان مقامات پر ہونے والا تشدد جہاد نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان واقعات سے جو تصور جہاد لوگوں نے اخذکیا ہے وہ مود فہم پر مبنی ہے۔ ہر علما کے فتوے کی تغابل کئے بغیر دکتور رزدق کا موجودہ قول سراسر بے معنی ہے۔ تو وہ ایک طرف ان مقامات پر ہونے والے تشدد کو جہاد ۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری طرف اس جہاد کی بنیادپر اسلامی جہاد کی جو تصویر بنتی ہے اس کو سود فہم اور رمتے ہیں۔ یہ ایک تضاد ہے اور بدقسمتی سے موجودہ زمانے کے تمام ۔۔۔۔۔۔ اور بولنے والے اس قسم کے اجتحاد مثلاٰ ہیں۔ وہ مسلمانوں کے تشدد کے تعین کی مانی میں تشدد بھی میں کہتے اور اخبار کو سودفعہ کا جرم قرار دے رہے ہیں۔ میرے نزدیک وہی چیز ہے جس کو قرآن میں محبونی ان یحمد و عالم ادیا کہا گیا ہے۔