Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6جنوری2000
مولانا شبلی نعمانی کا انتقال 1914میں ہوا ہے۔ اس وقت وہ اعظم گڑھ میں تھے۔ ان کے شاگرد خاص مولانا سید سلیمان ندوی اس وقت پونا میں تھے جہاں وہ پونا کالج میں فارسی کے استاد تھے۔ مولانا شبلی نعمانی جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اعظم گڑھ سے پونا کے لیے ایک ٹیلی گرام بھیجا اور مولانا سید سلیمان ندوی سے کہا کہ فوراً اعظم گڑھ آجاؤ۔ چند دن کے اندر وہ پونا سے روانہ ہوکر اعظم گڑھ پہنچے۔ مولانا شبلی جو اسی وقت بسترمرگ پر تھے۔ اپنے شاگرد سید سلیمان ندوی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: وعدہ کرو کہ تم میرے بعد میرے چھوڑے ہوئے کام کو پورا کروگے۔ سید سلیمان ندوی نے وعدہ کیا اور اس کے بعد کالج کی ملازمت چھوڑکرکے اعظم گڑھ میں رہنے لگے۔ اور مولانا شبلی کے چھوڑے ہوئے کام کو پورا کیا۔
یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے لیکن اس میں بہت بڑی نصیحت ہے۔ اعظم گڑھ اور پونا کے درمیان اس قسم کا کمیونی کیشن ہندوستان میں قدیم راجاؤں کے زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ مسلم حکمرانوں کے زمانہ میں بھی ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ صرف انگریزوں کے دورحکومت میں ممکن ہوا جب کہ انہوں نے ڈاک اور تاراور ریل کا نظام ہندوستان میں قائم کیا۔ یہ بلاشبہ ملک کے لیے ایک عظیم نعمت تھی۔ مگر میں 1947تک اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھا۔ چونکہ اس وقت کا پوراماحول اور تحریروتقریر کے تمام ہنگامے صرف یہ بتارہے تھے کہ انگریز مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس نے ہندوستان کو صرف تباہ و بربادکیا ہے۔ بہت بعد کو ذاتی مطالعہ سے میں نے یہ جانا کہ یہ ایک لغوپروپیگنڈا تھا ورنہ