Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21اپریل2000
ریڈیو کی سوئی گھمارہاتھا کہ آل انڈیا ریڈیو سے ایک پروگرام آنے لگا۔ ایک ہندوستانی فلم پروڈیوسر اپنی زندگی کی کچھ باتیں’’فلمی ستارے‘‘ کے پروگرام کے تحت بتارہا تھا۔ اس سلسلہ میں اس نے بتایا کہ ایک دفعہ محمد رفیع صاحب میرے یہاں گانے کی ریکارڈنگ کرنے کے لیے آئے۔ ان کے ساتھ حسب معمول ان کے عزیز مسٹر ظہیر بھی تھے۔ میں نے دیکھا کہ گانا گاتے ہوئے رفیع صاحب کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ مجھے تعجب ہوا۔ میں نے مسٹر ظہیر کو الگ لے جاکر پوچھا کہ کیا بات ہے کہ آج رفیع صاحب گاتے ہوئے رونے لگے۔ مسٹر ظہیر نے بتایا کہ رفیع صاحب اپنی لڑکی کی شادی کررہے ہیں۔ اس کے بعد فلم پروڈیوسر نے رفیع صاحب کا گایاہوا ایک گانا سنایا۔ اس گانے میں ایک باپ شادی کے بعد اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے اپنے پروانہ جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ اس گانے کی دوسطریں یہ تھیں: