Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29نومبر2000
حضرت اسرار ان کے بعد سے خاندان (عمادین یاسر، عبداللہ بن یاسران کی والدہ تسبیہ) کو بنو مخزوم سخت ترین اذیتیں پہنچاتے تھے اس حالت میں کہ دل خواہ دیکھتے تو فرماتے : صبراً دا آل جامس جان مومن کم الجنۃ اے آل یاسرجو کئی سے منسلک تم سے انہت کا وعدہ ہے دوسری بات کے مطابق آپ بھی فرماتے: البن واجاآل منھا وآل یاسر خان موعواکم الجنۃ، بشارت ہو اے آل تمار لہ آئے آل اسرتم سے جنت کا وعدہ ہے۔
عام دین کے مطابق دیکھئے تو یہ اخوذ بلند بزدل کی تعلیم معلوم ہوگی۔ مگر یہ بزڈو لہجہ بلکہ حکمت کی نواع مکی دور میں اسلام دعوت کے مرحلے میں تھا، اور دعوت کے مرحلے میں یکطرفہ طور پرصبر کیا جاتا ہےتاکہ دعوت کا عمل منڈل انداز میں جاری رہے۔
موجودہ زمانے میں بھی ہندوستان جیسے ملکوں میںیہی صورتحال ہے یہاں ہم کو پہلے دعوت کا کام کرنا ہے اورفطری کا کام مؤثر انداز میں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان یکطرفہ طور پر صبر کی روش اختیار کریں۔