Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The Dortrait of a lady by Henry James
ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عورت امریکہ میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ نہایت ذہین ہے اور اس کے ساتھ وہ ایک آئیڈیلسٹ (Idealist) ہے وہ اپنے آئیڈلی کو سٹے ہوئے یورپ آتی ہے۔یہاں اس کو مختلف قسم کے تجربات پیں آتے ہیں۔ آخر میں یہ ہوتا ہے کہ اس کا ایک کزن (ـCousin)جو بہت مالدار ہے وہ ٹی او کا فریض ہوجاتا ہے۔ آخر ۔۔۔ میں وہ ایک وصیت کے ذریعہ اس امریکی خاتون کو دیدیتا ہے جب لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پاس کافی دولت آگئی ہے تو کئی لوگ اس کی دولت کے حریص بن جاتے ہیں۔ آخر میں ایک اٹھالوی شخص اس کو فریب دے کر اس سے شادی کرلیتا ہے۔ یہ اطالوی شادی شدہ ہوتا ہے۔ مگر دولت کی خاطر وہ اس عورت کو بے وقوف بناتا ہے۔ اس عورت کو اصل حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اگر چہ وہ اس اطالوی مرد کے ساتھ نباہ کرتی ہے اس کی زندگی بالکل تلخ ہوجاتی ہے۔ اس کے Idealismکا شیشہ حقائق سے ٹکراکر چورچورہوجاتا ہے۔
یہ ایک عام انسانی تجربہ ہے۔ ہر آدمی اس قسم کے ناکام حساس میں مبتلا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی منصوبے کی خبر نہیں خدانے انسان کو پیدائشی طور پر آئیڈلسٹ Idealistبنایا۔ اسی کے ساتھ ہر آدمی کو آزادی دےدی۔ اس عمومی آزادی کی بنا پر کوئی شخص اس آئیڈیل کو حاصل نہیں کرپاتا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو Idealistاس لیے بنایاگیا ہے تاکہ وہ جنت کا تصور کرسکے اور اس کو اپنی منزل بنالے۔ لیکن ہر آدمی اسی موجودہ دنیا میں اپنی آئیڈیل ورلڈ بنانے لگتا ہے۔ اور ناکام ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ دنیا کو امتحان کی دنیا سمجھے۔ موجودہ دنیا میں انسان کل اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے اندر آئیڈیل شخصیت بنا بیٹھے کے خارجی طور پر ذہنی اور روحانی معنوں میں یہی آئیڈیل شخصیت خدا کی جنت میں بسائے جانے کی قابل ہوگی۔ دنیا میں آئیڈیل شخصیت ہے اگر آخرت میں آئیڈیل ورلڈ۔