Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8مارچ2000
ملاقات کے دوران مجھے چھینک آگئی۔ میری زبان سے نکلا الحمدللہ میرے پاس بیٹھے ہوئے برادرم شفیق احمد ندوی نے اسلامی قاعدے کے مطابق کہا: یرحمک اللہ۔ اس پر میں نے بتایا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس کی ہر بات تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ شرطیکہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان منداے اور خوشگوار تعلقات ہوں، نفرت اور تناؤ کا ماحول نہ ہو۔ میں نے یہ واقع سنایا کہ امریکہ میں ایک مسلمان کا لڑکا ایک اسکول میں پڑھتا تھا۔ یہ مسلمان اسکول کے پرنسپل سے ملنے کے لیے گیا وہ اس کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کو چھینک آگئی۔ اس کی زبان سے نکلا الحمدللہ اسکول کے پرنسپل نے پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے مسلمان نے بتایا کہ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہے اور سننے والا یرحمک للہ کہے پھر پرنسپل کے پوچھنے پر مسلمان نے اس کی تشریح کی۔ پرنسپل کو یہ طریقہ بہت پسند آیا۔ اس نے کہا کہ مجھے اسلامی کتابیں دیجئے میں اسلام کا موازنہ کروں گا۔