Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14اگست2000
مہاتما گاندھی کی ملاقات بمبئی میں دو کمیونسٹ لیڈروں سے ہوئی۔ رندپوے اور ایس اے ڈانگے۔ ان کمیونسٹ لیڈروں نے گاندھی پر کمیونسٹ نظریہ کی تبلیغ شروع کی۔ اس پر گاندھی نے کہا کہ آپ لوگ مجھے کمیونسٹ بنانے کی کوشش نہ کریں۔ میں تو پہلے ہی سے کمیونسٹ ہوں۔ مگر تشدد کے بغیر:
I am a communit minus violence.
19ویں صدی کا نصف آخر اور بیسوی صدی کا نصف اول وہ زمانہ ہے جبکہ دنیا کے بیشتر تعلیم یافتہ لوگ کمیونزم کے سحر سے متاثر تھے۔(میں خدا کے فضل سے ہمیشہ کمیونزم کے ۔۔۔۔۔ رہا) یہ دراصل قدیم حالت کا حرد عمل تھا جس نے کمیونزم کے بے اصل نظریہ میں اتنی کشش پیدا کردی۔ پہلے لوگوں کو یہ دکھائی دیا کہ کمیونسٹ نظام کے تحت معاشی وسائل کی مساویانہ تقسیم (Equal Distribution)ممکن ہوتی۔ جب یہ تجربہ ناممکن ثابت ہوا تو اس کے بعد ان لوگوں نے بیفیضانہ تقسیم (Equitable Distribution)کو اپنا نشانہ بنالیا۔ جب یہ نظریہ بھی ناکام ہوگیا تو ریاست کے تحت منظم تقسیم (Contralled Distribution)تویوں کا نشانہ بن گیا۔ مگر یہ نظریہ بھی مکمل طور پر ناکام رہا۔ اب ساری دنیا آزادانہ تقسیم (Liberal Distribution)کی بول بولی رہی ہے۔
امریکہ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس سے معلوم ہوا اس قسم کے نظریاتی خوش فہم لوگ پیدا نہیں ہوے۔ اول دن سے اس کو دیا گیا کہ اس دنیا میں فطری طور پر لبرل تقسیم ہی کا نظام ممکن ہے چنانچہ200سال سے وہ اس اصول پر چل رہا ہے۔ اس دور میں امریکہ واحد ملک ہے جو قابل نظامعات میں (Sustained Economy)کے اصول پر پورا اترا ہے۔ جس میں امریکہ کی کامیابی کا اصل راز ہے۔ دوسرے ممالک خود اس نظریہ کے ساتھ باربار کیے گئے معاشی تجربے کرتے رہے۔ اس غیر مستحکم معاشی حالت نے دوسرےملکوں کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔