Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22نومبر2000
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ومن کل شئی خلقنا زوجینن لعلکم تذکرون( ) اس آیت میں جوڑےزوجین سے مراد عام طور پر عورت یا مرد یا مذکرومؤنث لیاجاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ زوجین کے اس اصول کا تعلق پوری زندگی وپوری کائنات سے ہے۔
مطلب یہ کہ اللہ نے اس دنیا کا نظام اس اصول پر بنایا ہے کہ کوئی چیز صرف تنہا اپنی بنیاد پر اپنی تکمیل نہ کرسکے۔ ہر چیز دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے آپ کو مکمل کرے۔ مثلاً منفی برقی ذرہ کے ساتھ منت برقی ذرہ، آنکھ کے ساتھ روشنی نظام تنس کے ساتھ آکسیجن وغیرہ۔
زوجین کا نظام ہماری دنیا میں کیوں ہے۔ غالباً ایسا اس لیے ہے کہ انسان اپنے عجز کا ادراک کرے۔ وہ سچ سمجھے کہ اس کا وجود مکمل وجود نہیں۔ وہ اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ایک اور چیز کا محتاج ہے۔ یہ دوسری چیز اللہ کی ہدایت ہے جس طرح روشنی کے بغیر آنکھ دیکھ نہیں سکتی اس طرح اللہ کی ہدایت کے بغیر انسان اپنے وجود کی حقیقی تکمیل نہیں کرسکتا۔