Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17اپریل2000
پانی پت کے دو تعلیم یافتہ ہندوملاقات کے لیے آئے۔ ان کے نام یہ ہیں: بلراج ملک، وجے آنند۔ وہ ایک مشن چلا رہے ہیں۔ اس کا مقصد انہوں نے ہندو مسلم میل ملاپ بتایا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ سب مذہب ایک ہیں۔ رام اور محمد میں کوئی فرق نہیں۔ میں نے کہا کہ ہندو مسلم میل ملاپ کا مشن بہت اچھا مشن ہے۔ مگر سب مذہب ایک ہیں کے نظریہ کا کوئی تعلق میل ملاپ سے نہیں۔ میل ملاپ باہمی عزت واحترام کے جذبہ پر قائم ہوتا ہے۔نہ کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اگرسب مذہب ایک ہیں کے نظریہ سے اتحاد قائم ہوتا ہو تو مذہبوں میں داخل لڑائی نہ ہوتی جب کہ ہر مذہب میں داخلی لڑائی عام ہے۔
پھر میں نے کہا کہ سب مذہب ایک ہیں کا نظریہ بہت سے بڑے بڑے لوگوں نے چلایا۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی، مگر وہ ناکام رہا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کو ہندومسلم ملاپ پیدا کرنا ہے تو آپ صرف میل ملاپ کے دائرہ میں کام کیجئے۔ مذہب کایونیورسل ٹرپریٹشن (Universal tarpretation)دےنے کی کوشش کیجئے۔ اس قسم کا انٹرپریٹشن پہلے بھی ناکام ہوا ہے۔ اور اب بھی ناکام رہے گا۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندو عقیدہ کے مطابق رام اوتار تھے۔ یعنی خدا کی مجسم۔ جبکہ مسلمان کو اس قسم کی تجسم کے خلاف ہیں۔ وہ محمد کو ایکایک ملہتم (Inspired)انسان مانتے ہیں نہ کہ خدا کا اوتار۔ ایسی حالت میں دونوں کو ایک بنانا نہ ہندو کے لیے قابل قبول ہوگا نہ مسلمان کے لیے۔