Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19اکتوبر2000
آر ایس ایس کا آل انڈیااجلاس آگرہ میں15-14-13اکتوبر2000کو ہوا۔ اس اجلاس کے خاتمہ پر آر ایس ایس کے سرسنچالک شری کے سی سورش نے اپنی تقریر میں جو بات کہی ان میں سے ایک بات کا تعلق مسلمانوں سے تھا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس کا ایک حصہ یہ تھا:
مسئل چیف نے عیسائیوں اور مسلمانوں کو راشٹریہ کی مکھیہ دھارا میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ مسلموں و عیسائیوں کے بھارتیہ کرن کی وکالت کرتے ہوئے شری سورش نے کہا کہ مسلموں و عیسائیوں کو یہاں کی پدھتی اور پرونیوں سے نالج رکھنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب مسلم دیوں میں جو پدھتی الگ الگ ہوسکتی ہے تو یہاں کے مسلمانوں کی پوجاپدھتی کا بھارتیہ کرن کیوں نہیں ہوسکتا ہے۔ سنگھ پرمکھ نے مسلمانوں سے کہا کہ انہوں نے انہیں اپنے آپ کو دیش کی سنسکرتک وراثت سے موڑلینا چاہیے۔ (راشٹریہ سہارا نئی دہلی16اکتوبر2000)
آر ایس ایس کے چیف ابھی تک ان باتوں کو دہرارہے ہیں جو ان کی پارٹیوں کے بانیوں نے80سال پہلے کہی تھی۔ حالانکہ اب زمانہ کے حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ آر ایس ایس کے قیام (1925)کے وقت نیشنل مین اسٹریم کا سوال تھا: اب نوبلائزیشن کے دور میں سوال انٹر نیشنل مین اسٹریم کابن چکا ہے۔ چنانچہ اب مسلمانوں کے بھارتیہ کرن سے بڑھ کر خودہندوؤں کے بھارتیہ کرن کی ضرورت پیش آئی ہے۔ کیوں کہ ہندوؤں کی نئی نسل بہت تیزی سے مغربی کلچر کو اختیار کررہی ہے اسٹریٹ کے رواج نے پورے سماج کو مل کر رکھ دیا ہے۔
ہندوسماج میں اس تبدیلی کا اعتراف خود آر ایس ایس کے سرسنچالک نے اپنی اسی تقریر میں اس طرح کیا ہے:
کے سی سدرشن نے کچھ کرتے ہوئے کہا کہ دیش میں ایک الگ طرح کی بوروایڈمین پر جاتی پنپ چکی ہے۔ جوہرحالت میں دیش کی استحقق کو بدلنے کا دورہ کرتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یوروانڈین پیتھی لوگ تھوڑی تھوڑی بات پر بلا مچانے لگتے ہیں کہ دیش کا بھاؤکرن ہورہا ہے۔