Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3اگست2000
ریاض (سعودی عرب) سے ایک عربی ہفتہ وار نکلتا ہے۔ جس کا نام الدعوۃ ہے۔ اس کے شمارہ 11ربیع الاخر1421۔ 13جولائی2000میں ایک مضمون چھپا ہے اس کا عنوان یہ ہے: اسرائیل مشکلۃ وجود۔۔لا حدود۔ اس مضمون کے لکھنے والے محمود الغیری ہیں ۔ اس مضمون کا خلاصہ مضمون نگار کے ان الفاظ میں ہے:
وکما قرء علماءنا۔ فکل مد فتحۃ المسلمون و مکموہ ثم تبلب علیہم الکفاء وجب تردید (صفحہ18)جیسا کہ ہمارے علماء نے ثاد کیا ہے، ہر ملک جس کو مسلمانوں نے فتح کیا ہو اور انہوں نے اس پر حکومت کی ہو۔ پھر اس پر کفار غالب آجائیں۔ تو اس کام کو دوبارہ آزاد کرانا جب ہوگا۔
مضمون نگار نے مزید یہ لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ میں علماء مسلمین پر کفار کا غلبہ مسلمانوں کے صعف کی بناپر ہوا۔ انہیں سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا صعف لی موجود ہے۔ اس باہر فلسطین کی بازیابی تک مسلمانوں کی پچاس سالہ مسلح دور تبدیل طور پر کات ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کھلے ہوئے صعف کے باوجود مسلمان عملی طور پر کیا کریں۔ کیا وہ اپنی مسلح جدوجہد کو جاری رکھیں خواہ ان کے نوجوان لاکھوں کی تعداد میں مرتے رہیں جیسا کہ اب تک پیش آیا۔ اگر اسلام کا تقاضہ یہی ہے تو مضمون نگار سمیت تمام مسلمانوں کو اپنے طاقتور آئین سے لڑکرمرجاناچاہیے۔
مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کا نقطہ نظر نہ اسلام کے لیے مطابق ہے اور عقل کے معاملات صحیح کرلیے وہی ہے جو خالد بن ولید نے ہو موتہ کے موقع پر کیا ۔ یعنی اتحاد سے واپس کر تیاری کے میدان میں سرگرم عمل ہوجاویں۔