Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8اکتوبر2000
ریاض کے عربی ہفتہ وار العالم الاسلامی کے شمارہ6اکتوبر2000 مطابق9رجب1421کے صفحہ اول پر ایک خبر چھپی ہے کہ پچاس عالموں نے ایک بیان پر اپنے دستخط کئے ہیں۔ اس بیان میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ مسلمان جمعہ کے دن کو غضب اسلامی کے دن کے طو پر منائیں۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ قدس میں یہودی ظلم اور خوں ریزی کررہے ہیں۔ اس خبر کا عنوان یہ ہے: فی بیان وقعہ عمسوں عالا و مفکر اوشخصیۃ اسلامیۃ کااعلان الیوم الجمعہ، یوم غضب اسلامی۔
قرآن میں سورہ الجمعہ اس وقت اتری جب کہ قریش کے لوگ حرم مکہ کی سخت بے حرمتی کررہے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ جنگ چھیڑرکھی ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے وطن چھوڑنے پر مجبورکردیا تھا، وغیرہ۔ ان سنگین حالات میں سورۃ جمعہ مدینہ میں اتری۔ مگر اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت نہیں دی کہ یوم جمعہ کو تم لوگ یوم غضب کے طور پر مناؤ۔ اس کے برعکس اس سورۃ میں کہا گیا کہ : اذانودی اہل الصلوٰۃ من یوم الجمعہ فا سعو الی دلحراللہ (الجمعہ9)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی یوم الجمعہ کو یوم الذکرکے طور پر منانے کے لیے کہا گیا۔ ایسی حالت میں جو لوگ یہ کہیں کہ یوم الجمعہ کو یوم الغضب کے طور پر مناؤ وہ بلا شبہ اسلام سے ناواقف ہیں، خواہ دنیا والوں نے اس کو علماء اسلام کا ٹائٹل دے رکھا ہو۔