Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29ستمبر2000
مولانا حکیم محمد صفدر شریف عمری سے (پیدائش1946)دہلی میں ملاقات ہوئی وہ مسلم جنوبی ہند کے شہر سلیم میں رہتے ہیں۔ (Code0427- tel 261194)وہ 1968سے تبلیغ سے جڑے ہوئے ہیں اور الرسالہ کے قاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سلیم میں ان کے پڑوس میں ایک مسلم دکاندار ہیں جن کا نام عبدالرشید ہے۔ وہ ایک پُرجوش آدمی ہیں قومی مسائل اور ہندوؤں سے متعلق مسائل میں اکثر جذباتی انداز میں باتیں کرتے ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو بزدل بن کر نہیں رہنا ہے بلکہ بہادر بن کر رہنا ہے۔
مولانا موصوف نے بتایا کہ تقریباً6ماہ پہلے کی بات ہے میں عبدالرشید صاحب کی دکان پر کھڑاہوا تھا۔ اتنے میں ایک ہندو آیا بظاہر وہ نشہ میں معلوم ہوتا تھا اس نے دکاندار کو دس روپیہ کا نوٹ دیا اور کچھ سامان مانگا عبدالرشید نے دس روپیہ تو لیے اپنے گلہ میں ڈال دیا او ہندو کا مطلوب سامان دیدیا۔
اب ہندو نے بقیہ پیسہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میں نے تم کو سو روپیہ دیا ہے میرا بقیہ پیسہ لوٹاؤنا موصوف نے بتایا کہ میں حیرت انگیز طو پر دیکھا کہ عبدالرشید نے مذکورہ ہندو سے کوئی بحث نہیں کی بلکہ خاموشی سے اس کے ہاتھ90وپیہ دی دیا مولانے نے بعد کو عبدالرشید سے پوچھا کہ تم تو بہادری کی باتیں کرتے تھے آج تم نے یہ کیا کیا۔ کہنے لگے کہ یہ ہندو بہت طاقت ور ہے اس وقت اگر انصاف کی بات کیا تو وہ ابھی بہت سے ہندوؤں کو لاتا اور تھوڑی دیر میں میری ساری دکان لٹ جاتی۔