Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3جولائی2000
حدیث میں ہے کہ : لانکاح الا لولی (ولی کے بغیر نکاح نہیں) اس کو حنفی فقہا نے اس معنی میں لے لیا کہ لایجوز النکاح الالوی (ولی کے بغیر نکاح جائز نہیں) مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ درست نہیں۔ اس طرح احناف نے ولی کے معاملہ کو شرعی حکم کی حیثیت دے دی۔ حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ نکاح کے معاملہ میں ولی کی اہمیت ایک معاشرتی مسئلہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک عملی بات ہے نہ کہ شرعی بات۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں ولی کی شرکت اور رضامندی کے بغیر جو نکاح ہو وہ عملی اعتبار سے زیادہ کامیاب نکاح ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں یہ لومیرج کے معاملہ میں ارینجڈ میرج کو زیادہ قابل عمل بتاتاہے۔
حدیثوں میں اس طرح کی بہت سے مثالیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات اس کی عملی اہمیت کے اعتبار سے کہی تھی مگر لوگوں نے اس کو شرعی حکم کی حیثیت دے دی۔