Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17ستمبر2000
برادرم کوکب الباری (21سال) میرے ساتھ تقریباً ایک سال سے کام کررہے ہیں۔ وہ دہلی میں اوکھلا کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ جہاں کی اکثریت مسلمان اور زیادہ تر تعلیم یافتہ ہے اس علاقہ میں جماعت اسلامی کا مرکزی دفتر بھی ہے۔ کوکب الباری صاحب نے بتایا کہ اکثر کچھ لوگ آپ کے بارے میں منفی تاثرات کا اظہارکرتے ہیں مثلاً یہ کہ وہ حکومت کے آدمی ہیں وغیرہ۔ میں نے کوکب الباری صاحب سے پوچھا کہ اس قسم کے منفی تبصرے سن کر آپ کے اندر میرے بارے میں تذبذب تو نہیں پیداہوتا۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہ حقیقت تو نہیں۔
میں نے کہا کہ اس قسم کا شک بے حد مہلک ہے۔ یہ عین وہی نفسیات ہے جس کو قرآن میں واءتبتم (الحدیث 14) کہا گیا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ایب کے بجائے دلیل کو اپنا رہنما بنائیں۔ جب بھی کوئی شخص آپ سے میرے بارے میں کوئی بات کہے تو اس سے اس کا حوالہ اور دلیل پوچھئے۔ اور پھر حوالہ اور دلیل کی روشنی میں اپنی رائے قائم کیجئے۔ محض شک او ایب کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرنا بے حد خطرناک بات ہے۔