Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9جون2000
مدارس دینیہ کا مقالہ جو انشاء اللہ الرسالہ ماہ اگست میں چھپے گا۔ وہ کل شام کو ٹائپ ہوکر مکمل ہوا ہے۔ آج فجر کے بعد میں اپنی عام عادت کے خلاف صبح کو لیٹ گیا۔ نیند آگئی تو یہ خواب دیکھا کہ سانولے رنگ کا ایک مسلمان ہے اس کو میں مدارس دینیہ کا ٹائپ شدہ مضمون پڑھنے کے لیے دیتا ہوں۔ وہ اس کو پورا پڑھ ڈالتا ہے۔ پھر میں اس کا تاثر پوچھتا ہوں تو وہ اس کا کوئی اعتراف نہیں کرتا صرف اس کے ایک جزء ’’غیر سیاسی ایمپائر‘‘ کو لے کر غیرسنجیدہ انداز میں اس پر تبصرہ کرتا ہے۔ جیسے کہ وہ اسی کی نظر میں بے حقیقت بات ہو۔
خواب میں میں اس سے کہتا ہوں کہ اصل یہ ہے کہ آپ لوگ ملی ہوئی چیز کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ آپ لوگوں کی نظریں نسٹ ہوتے پر اٹکی رہتی ہیں۔ اس لیے آپ اس کو سمجھنے سے قاصر ہورہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج مسجدوں اور مدرسوں اور دینی اداروں کی صورت میں اس ملک میں مسلمانوں کے قیام و استحکام کا ضامن بنا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میں اس سے اورنگ زیب عالمگیر کی مثال دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اورنگ زیب کو خود آپ کے معنی میں ایک پورا ایمپائر ملا تھا لیکن اس طے ہوئے ایمپائر کو کم سمجھنے کی وجہ سے وہ دوسروں سے لڑنے میں مشغول ہوگیا جس میں تقریباً 25سال تک مشغول رہا یہاں تک کہ اس نے ملے ہوئے کو بھی کھودیا۔