Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23نومبر2000
قرآن و سنت کے مطالعہ سے میری سمجھ میں یہ آیا ہے کہ انسان کے تزکیہ کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ اس کے اندر عجز کا احساس پیدا ہو۔ عجز کا احساس ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے اندر ابدیت کی اعلیٰ کیفیات پیدا کرتا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسباب کی فراوانی کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ لوگ اتنا زیادہ اسباب راحت اکٹھا کرتے ہیں کہ انہیں اور ان کے بچوں کو کبھی عجز کا تجربہ نہ ہونے پائے۔ وہ رات کے وقت اپنے گھر میں اتنی زیادہ روشن کریں گے کہ انہیں کہیں ٹھوکر نہ لگے۔ وہ روزے میں بھی اتنا زیادہ کھائیں گے کہ شام تک انہیں بھوک کا احساس نہ ہو وہ نماز کے لیے ایسا نرم قالین بچھائیں گے جو انہیں زمین کی سختی کا تجربہ نہ ہونے دے۔ وہ حج کے سفر میں اتنا زیادہ اہتمام کریں گے کہ سارے سفر میں کہیں بھی انہیں کوئی مشکل نہ پیش آئے۔ وہ اتنا زیادہ کمائیں گے کہ ان کے لیے اور بونے تک زندگی کی تلخیوں سے محفوظ رہیں۔ وہ ایسی مصالحانہ زندگی گزاریں گے کہ انہیں کسی سے کوئی دکھ نہ جھیلنا پڑے۔ وہ دواؤں کا اتنا زیادہ اہتمام کریں گے کہ مرنے کے وقت تک انہیں کسی جسمانی تکلیف کا تجربہ نہ پیش آئے، وغیرہ۔
دنیا میں عجز کا تجربہ ایک نعمت ہے۔ وہ آدمی کے اندر ابدیت کا احساس جگاتا ہے۔ مگر لوگ ہر قسم کا اہتمام کرکے یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس نعمت سے عمر بھر محروم رہیں وہ ہمیشہ اپنے آپ میں جئیں نہ کہ اللہ وحدہ لا شریک میں۔