Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28جولائی2000
مولانا محمد تقی امینی (وفات1991)اسبیہا (ضلع بارہ بنکی) کےرہنے والے تھے۔ بعد کو وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں سنی شعبہ دینیات کے ناظم ہوگئے تھے۔اور یہیں ان کا انتقال ہوا۔ ان کو مجھ سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ علی گڑھ میں ان کے مکان کے قریب جماعت اسلامی کا ادارہ تصنیف و تالیف قائم تھا جس کے تحت جماعت اسلامی کے کی لوگ وہاں رہتے تھے۔ یہ لوگ اکثر مولانا تقی امینی سے میری برائی کیا کرتے تھے۔
اس زمانہ میں میں اکثر علی گڑھ جاتا تھا اور مولان تقی امینی صاحب کے یہاں قیام کرتا تھا۔ ایک بارانہوں نے جماعت اسلامی والوں سے کہا کہ وحید الدین خاں جب تمہاری جماعت میں تھے اس وقت تم لوگ ان کو سکنڈمودودی کہتے تھے۔ اور اب ان کو اس طرح گھاٹے ہوجیسے کہ ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں تم لوگوں کا وہی حال ہے جو مدینہ کے یہودیوں کا تھا۔ مدینہ کے ایک یہودی عالم عبداللہ بن سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا اس کے بعد وہ آڑ میں بیٹھ گئے۔ اس اثناء میں مدینہ کے دوسرے یہودی رسول اللہ کے پاس آئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ انہوں نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے عالم ہیں اور۔۔۔ عالم کے بیٹے ہیں۔ ’’ھوعالمنا وابن عالینا‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو عبداللہ بن سلام یہاں وجود نہیں اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ یہ سن کر وہ ۔۔۔۔ برعکسطور پر کہنے لگے کہ وہ الجاہل ہے اور جاہل کا بیٹا ہے۔ (ھوجاہل، وابن جاہل)