Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16نومبر2000
آج صبح کو ڈاکٹر مہیش چندرشرما کا ٹیلیفون آیا۔ وہ آر ایس ایس کے آدمی ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کے ممبر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ پہلے کمیونل مسلمانوں کو براکہتے تھے۔ اور ان کو ملک کا داخلی دشمن (Enternal Enemy)بتاتے تھے۔ مگر اب آپ لوگوں کا زیادہ دھیان اپنے پولیٹیکل انٹرسٹ پر ہے۔ میں نے کہا کہ دہلی کے امام بخاری ہمیشہ کمیونل بولی بولتے رہے ہیں۔ مگر پچھلے مہینہ جب ان کی گدی نشیں ہوئی تو آپ کے پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپائی نے ان کوبدھائی (مبارکباد) دی۔ ڈاکٹر شرما نے کہا کہ مولانا صاحب، یہ تو ہمارے دیش کی پرمپرا ہے۔ ہماری پرمپرا میں سانپ کو بھی دودھ پلایاجاتا ہے۔ اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ ڈائلاگ بنارہتا ہے، ڈائیلاگ ٹوٹے نہیں پاتا۔ میں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ بنائے رکھنا نہیں ہے بلکہ ناپسندیدہ عناصر کو ایڈوانس (تصدیق) کرتاہے۔
میں نے سوچا کہ آپ اگر سنجیدہ نہ ہوتو اس سے مفید ڈسکشن نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا آدمی ہر بات کی کاٹ کے لیے ایک لفظ بول دے گا۔ جو ان منطقی طور پر اس لفظ کا کوئی مطلب نہ ہو۔