Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
31اگست2000
روس کی ایک سب میرین (Submarine) 12اگست2000کو سمندر میں ڈوب گئی، یہ ایٹمی طاقت سے چلنے والی سب میرین تھی، اس کے ڈوبنے کے بعد چھ دن تک یہ خبریں آتی رہیں کہ روس کی بحری فوج اس کونکالنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن زیرآب تیز لہروں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہورہی ہے۔ اس دوران برطانیہ وغیرہ نے پیش کش کی کہ وہ اپنے ماہرین بھیج کر اس کو نکالیں، مگر روسی حکمراں یہ کہتے ہے کہ ہمیں کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ آخرکار 4دن گزرگئے اور روسی عوام کے شوروغل کی بناپر حکمرانوں نے برطانیہ اور ناروے سے مددمانگی، اس کے بعد برطانیہ اور ناروے کے غوطہ خوروہاں پہنچے اور اگلے دن سمندر کی تہہ میں اترکر سب میرین تک پہنچ گئے۔ مگر جب انہوں نے اس کا دروازہ کھولا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر سوار ایک سواٹھارہ روسی سب سے سب ہلاک ہوچکے ہیں۔ اب روسی عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حلاکت صرف اس لیے ہوئی ہے کہ باہر کی مدد ایک ہفتہ کی تاخیر سے بلائی گئی۔
میں نے اس خبر کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ ایٹمی طاقت سے چلنے والی سب میرین بنانا اصل کمال نہیں ہے کمال یہ ہے کہ جب بحران کی حالت پیش آئے تو اس سے نپٹنے کے اسباب بھی موجود ہوں۔ درست طور پر کہا گیا ہے کہ کسی فردیا قوم کی حالت بحران (Crisis)کے وقت پہچانی جاتی ہے۔