Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21اگست2000
میرے اندرخداکے فضل سے یہ مزاج ہے کہ ایک تجربہ میرے لیے مستقل سبت بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر غالباً1960کی بات ہے، اس وقت میرے مدرسہ کے ایک ساتھی عطاء الرحمن صاحب تھے۔ وہ فیض آباد (جگن پور) کے رہنے والے تھے۔ میں ایک بار ان کے گھر پر گیا۔ وہاں پہنچ کر میں ان کے گھر پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک بارش ہونے لگی۔ یہ بظاہر ایک بے وقت بارش تھی۔ عطاء الرحمن صاحب کے ایک عزیز جو کسان تھے انہوں نے اس بارش کو دیکھ کر کہا:اللہ میاں، برستے برستے بوڑھے ہوگئے مگر برسنا نہ آیا۔
اس تجربہ کے بعد میں نے ہمیشہ کے لیے ایک حقیقت کو جان لیا ۔ وہ یہ کہ شکایت انسان کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے نہ کہ خارج میں۔ انسان اگر شکایتی مزاج رکھتا ہے تو اس کو ہر ایک سے شکایت ہوجائے گی۔ حتیٰ کہ خدا، رسول اورصحابہ رسول سے بھی۔ لیکن اگر شکایتی مزاج نہ ہو تو اس کو کسی سے بھی شکایت نہ ہوگی۔ کیوں کہ وہ باتوں کو ان کے واقعی محل میں رکھے گا، اورجس بات کو اس کے فعل میں رکھا جائے تو شکایت پیدا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ شکایت ایک نفسیاتی کمزوری ہے۔ نہ کہ کوئی خارجی واقعہ۔
مزید کہ موجودہ دنیا میں چونکہ ایک کو دوسرے سے شکایت ہونا بالکل فطری ہے۔ اس لیے دنیا میں مزاج کے لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ ہوجاتے ہیں۔ جہاں ان کا انٹرسٹ وابستہ ہووہاں وہ شکایت کے باوجود بے شکایت بنے رہتے ہیں اور جہاں زمانہ کا مسئلہ ہو وہاں وہ فوراً شکایت کرنے لگتے ہیں۔