Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16اگست2000
قرآن کی آخری دوسورتوں کو معو دین کہا جاتا ہے۔ مگر جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود ان دونوں سورتوں کو مصحف کا جزء نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ :انہاتتک من کتاب اللہ (فتح البار615/8)یعنی یہ دونوں صورتیںکتاب اللہ کا حصہ نہیں۔
معودین کا حصہ قرآن ہونا متواترروایت سے ثابت ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ اور علماء کے متعلقہ مسلک کے مکانی جو شخص کسی اجماع کا انکار کرے وہ کافر ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت عبداللہ بن مسعود کے لوگوں سے لے کر اب تک کئی عالم نے ان کی تلقیر نہیں کی۔ بلکہ ہر ایک نے اپنے اپنے انداز سے ان کے اس قول کی تاویل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں اقوال علماء کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو۔ فتح الباری لابن حجر، الجز، الثامن، صفحہ615-616
علماء کے اس مسلک کا سبب یہ ہے کہ کسی آدمی کو شخص کرکے اس کی تکفیر کرنا اگرچہ کلا ایک جائز فعل ہے مگر متقی علماء نے ہمیشہ اس سے اجتناب کیا ہے۔ تکفیر کی مثالیں ملتی ہیں تو صرف غیر ذمہ دارانہ غیرسنجیدہ قسم کے لوگوں کے یہاں علماء امت کے یہاں اس کی مثالیں اتنی کم ہیں کہ وہ ۔۔۔۔ نہیں کے برابر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین سے انحراف خواہ وہ کتنا ہی بڑاہو، اس میں اس بات کے لیے مکفل نہیں کرتا کہ ہم اس کی تکفیر کرنے لگیں۔ کسی کو مومن اور کس کوکافر قرار دینا اصلا اللہ کا کام ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم قائل کے قول کی تاویل کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرتے ہیں۔