Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23فروری2000
راحت اور سکون کی زندگی بظاہر بہت اچھی زندگی معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ راحت اور سکون کی زندگی کوئی پسندیدہ زندگی نہیں۔ اس دنیا میں راحت اور سکون کی یہ مہنگی قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کا ذہنی ارتقاء رک جائے۔ وہ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں سے آشنا ہی نہ ہو سکے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں مطلوب زندگی وہی ہے جو مشقت اور چیلنج کی زندگی ہو۔ مشقت اور چیلنج کی حیثیت اس دنیا میں زحمت میںرکائے (Blessing in disguise)کی ہے۔ اس کے ذریعہ آدمی کی خفیہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ آدمی کے اندر روحانیت کے لطیف جذبات پر روش پاتے ہیں۔ اس کے ذریعہ آدمی اعلیٰ حقیقتوں کا تجربہ کرنا ہے۔
ہر راحت زندگی کی مثال اس پودے کی ہے جس کے اوپر سونے اور جواہرات کے کمرہ میں بند کرکے رکھ دیا جائے۔ اور مسائل سے پر زندگی کی مثال اس درخت کی ہے جس کو کھلے میدان میں نصب کیا جائے۔