Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27اکتوبر2000
پاکستان میں1970میں عام انتخابات ہوئے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے اس انتخاب میں بھرپور حصہ لیا۔ اس زمانہ میں جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کے بیانات اخباروں میں چھپتے تھے۔ جن میں یہ ظاہر کیا جاتاتھا کہ جماعت اسلامی کوعوام کا اتنا زیادہSupportملے گا کہ وہ یہاں حکومت بنائے گی۔ اسی زمانے میں میں لاہورگیا۔ جب میں لاہور شہر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کی دیواروں پر اس مضمون کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں:انشاء اللہ جیتے گی، جماعت اسلامی جیتے گی۔
میں نے ان پوسٹروں کو دیکھ کر اپنی معلومات کی بنا پر سوچا کہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ: انشاء اللہ ہارے گی جماعت اسلامی ہارے گی۔ میری یہ برعکس رائے اس لیے تھی کہ لاہور شہر میں داخل ہونے کے بعد میرا پہلا تجربہ مجھ کویہ بتارہا تھا ۔ لاہور میں مجھ کو مولانا امین احسن اصلاحی کے یہاں جانا تھا۔ میں ایک آٹورکشا پر سوارہوک احمد اسٹریٹ پہنچا۔ میرے پاس گھر کا نمبر نہ تھا۔ میں نے محلہ والوں سے پوچھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی کا تو کون سا ہے۔ معلوم ہوا کہ محلہ والے یقین کے ساتھ ان کی شخصیت کو نہیں جانتے۔ جب میں نے مولانا کی بابت پوچھا تو کسی نے کہا کہ کون، مولانا ابو الاعلی اصلاحی۔ کسی نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کون، مولانا امین حسن مودودی اس وقت میں سمجھ گیا کہ جب جماعت اسلای کے ٹاپ کے رہنماؤں کے بارے میں عوام اتنے زیادہ بے خبر ہوں تو عوامی انتخاب میں وہ کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں۔