Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20فروری2000
میرے ساتھ یا آج کل ایک نوجوان کوکب الباری الندوی کام کرتے ہیں۔ دو مہینہ سے وہ روزانہ میرے پاس آتے ہیں میں ان سے لکھنے اور پڑھنے میں مددلیتا ہوں۔ آج مجھے دہلی میں اپنے گھر سے اوکھلا جانا تھا۔ وہاں جناب فرید الوحیدی صاحب سے ملنا تھا انہوں نے اپنی گاڑی بھیجی تھی۔ کوکب الباری ندوی چونکہ اوکھلا میں رہتے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ گاڑی میں چلئے۔ ہم آپ کو اوکھلا میں اتار دیں گے۔ میں گھر سے نکل کر گاڑی پر پیچھے کی سیٹ پر بیٹھا اس کے چند منٹ بعد ایک نوجوان اندر داخل ہوکر سیٹ پر میرے قریب بیٹھ گیا۔جب ان کو دیکھا تو میں اُن کو پہچان نہ سکا۔ تھوڑی دیر کے لیے تشویش ہوئی کہ یہ کون نوجوان ہے جو گاڑی میں داخل ہوکر میرے پاس بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولے تو ان کی آواز سے میں نے پہچانا کہ یہ کوکب الباری الندوی ہیں۔
ایسا کیوں ہوا کہ میں کوکب الباری الندوی کو ان کے چہرے سے نہ پہچان سکا۔ میں نے صرف ان کو ان کی آواز سے پہچانا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ان کی آوازکوروزانہ سنتا تھا مگر دومہینے کی پوری مدت میں میں نے کبھی ان کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب گاڑی میں میں نے اچانک ان کا چہرہ دیکھا تو میں ان کو پہچاننے ےسے قاصر رہا۔
میری یہ کیفیت کوئی نئی نہیں تھی ایسا میرے ساتھ اکثر ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں کسی شخص کو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، کبھی غور سے نہیں دیکھتا۔ میرے مزاج میں وہ چیز بہت زیادہ ہے جس کو ترکیز(Concentration)کہا جاتا ہے۔ مجھے جن موضوعات سے دلچسپی ہے وہی موضوعات میرے ذہن میں ہر وقت گھومتے رہتے ہیں ۔ خدا کے فضل سے میرا ذہن معلومات کا کباڑخانہ نہیں ہے بلکہ اُن منتخب اشیاء کا ایک اسٹور ہے۔ میں جن چیزوں کو چاہتا ہوں وہی میرے ذہنی اسٹور میں داخل ہوتی ہیں۔ اور میں جن چیزوں کو نہیں چاہتا وہ میرے اسٹور میں داخل بھی نہیں ہوتیں۔ اور یہ سب منفی شعوری فیصلہ کے تحت نہیں ہوتا بلکہ غیر شعوری فیصلہ کے تحت انجام پاتا ہے۔