Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17جولائی2000
عبدالرحمن صاحب (پیدائش1958)الہ آباد بینک میں منیجر ہیں۔ آج کل وہ دہلی کی انٹر نیشنل برانچ میں ہیں (Tel.2824019)، انہوں نے اپنے کئی سبق آموز واقعات بتائے مثلاً وہ1992-93میں لکھیم پور کھیری ضلع کی نگہہ برانچ میں منیجر تھے۔ ایک روز بلاک ڈولپمنٹ کے آفس میں میٹنگ ہورہی تھی۔ علاقہ کے تمام بینکوں کے منیجروہاں موجود تھے۔ گفتگو کے دوران بلاک ڈولپمنٹ آفیسر نے کسی قدر تحکمانہ انداز میں لمبی گفتگو شروع کردی۔ وہ بینک والوں کو یہ الزام دے رہے تھے کہ انہوں نے مقامی کسانوں اور تاجروں کو قرضہ دینے میں لاپرواہی کا ثبوت دیا ہے۔ اس پر بینک کے افسران بھی اپنے دفاع میں تیز انداز میں بات کرنے لگے۔ بظارہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ شوروغل پر یہ مجلس ختم ہوجائیگی۔ اور کوئی بات طے نہ ہوسکے گی۔ عبدالرحمن صاحب نے یہ منظر دیکھ کر نہایت لائٹ موڈ میں نرمی کے ساتھ بلاک ڈولپمنٹ آفیسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جس کو دوسرے لوگوں نے بھی سنا: کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم لوگ پڑھے لکھے آدمیوں کی طرح بات کریں۔ یہ سنتے ہی تمام لوگ ٹھنڈے ہوگئے اور تلخ کلامی کی مجلس سنجیدہ مجلس میں تبدیل ہوگئی۔ اس کے بعد تمام باتیں حسن و خوبی کے ساتھ طے پائیں۔