Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25اپریل2000
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی امتیں72فرقوں میں بٹ گئیں۔ اور امت محمد 73فرقوں میں بٹے گی۔ سب سے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول وہ ایک کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب۔
اس حدیث پر غورکرنے کے بعد میری سمجھ میں آیا ہے کہ اس سے مرادغالباً یہ ہے کہ لوگ دین اسلام کی مختلف تشریحیں اور تعبیر یں کریں گے۔ اس طرح دین کے بہت سے ماڈل بن جائیں گے۔ مثلاً قومی ماڈل، گروہی ماڈل، نسلی ماڈل، درگاہی ماڈل، مادی ماڈل، جماعتی ماڈل، برکتی ماڈل، کراماتی ماڈل، سیاسی ماڈل، قانونی ماڈل، رسمی ماڈل،بھلائی ماڈل وغیرہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے تمام ماڈل غیر مطلوب ماڈل ہیں۔ اللہ کے یہاں مطلوب اور مقبول ماڈل صرف ایک ہوگا اور وہ صحابہ ماڈل ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے براہ راست رسول اللہ سے دین کو اخذ کیا اور آپ کی تعلیم و تربیت کے مطابق اپنی زندگی بنائی۔ میرے اس نقطۂ نظر کی تائید قرآن سے ہوتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف ایک ماڈل مطلوب ہے اور وہ مثل صحابہ ماڈل ہے۔
آخرت کی میزان میں جو شخص مثلی صحابہ ماڈل پرپورااترے گا اس کو خداقبول کرلےگا۔ اور بقیہ تمام ماڈل کو رد کرکے پھینک دےگا۔