Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21نومبر2000
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب قیامت آئے گی اور تمام انسان حشر کے میدان میں اکٹھا ہوں گے تو اعلان ہوگا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے زیادہ تسبیحیں پڑھی ہیں، جن کے پاس رکعتوں کی تعداد زیادہ ہے، جنہوں نے زیادہ ختم قرآن کیے ہیں، اور پھر اس قسم کے لوگ فوج در فوج نکلیں گے اور جنت کی دنیا میں داخل ہوجائیں گے۔ مگر مجھے یقین ہے کہ ایساہونے والا نہیں۔
اس کے برعکس وہاں جو ہوگا وہ غالباً یہ کہ یہ اعلان کیا جائے گا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کی اور اللہ سے سب سے زیادہ ڈرے۔ وہ آگے آئیں اور جنت کے دروازوں میں داخل ہوجائیں۔ اس اعلان کے بعد میدان حشر میں ایک سناٹا چھاجائے گا اور پھر کچھ دیر کے بعد تھوڑے سے لوگ نکلیں گے جو جنت کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اس طری وہاں یہ اعلان ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اپنی تنہائیوں میں اللہ کے خوف سے روئے اور پھر دوبارہ میدان حشر میں سناٹے کا عالم ہوگا اور پھر تھوڑے سے لوگ نکلیں گے جو آہستہ چلتے ہوئے جنت کے دروازوں میں داخل ہوں گے۔ اس طرح اعلان ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں قول شدید کا ثبوت دیا۔ دوبارہ میدان حشر میں سناٹا چھاجائے گا۔ اور پھر تھوڑے سے لوگ نکلیں گے جو چلتے ہوئے جنت کے دروازوں میں داخل ہوںگے۔ اس طرح اعلان ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے ہوئے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور دوبارہ میدان حشر میں سناٹا ہوجائے گا اور پھر تھوڑے سے لوگ نکلیں گے جو جنت کی طرف جاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس طرح وہاں اعلان ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنیانا کو کچلا اور اللہ کے لیے اپنی غلطی کااعتراف کیا۔ اور پھر دوبارہ میدان حشر میں سناٹے کا عالم ہوگا کچھ دیر کے بعد تھوڑے سے لوگ نکلیں گے جو چلتے ہوئے جنت کے دروازوں میں داخل ہوں گے۔