Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12نومبر2000
حدیث کے مطابق، ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام خود مسلمانوں کے درمیان اجنبی ہوجائے گا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے اسلام کی جو تعلیمات اجنبی (غریب) ہوگئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام میں محارب (Combatant)اور غیر محارب(Non-Combatant)کے درمیان تو فرق کیا گیا ہے مگر دوست اور دشمنی کے اعتبار سے اسلام میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔
جولوگ بظاہر دشمن نظر آتے ہوں ان کے ساتھ بھی مسلمانوں کومعتدل انداز میں ملنا چاہیے۔ ذہن کے مطابق، عین ممکن ہے کہ آج بظاہر جو دشمن ہے وہ کل تمہارا دوست بن جائے۔ البتہ محارب کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ محارب سے مراد وہ شخص یاگروہ ہے جس نے عملاً اور یکطرفہ طور پر مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑدی ہو۔ ایسے لوگوں سے بہرحال جنگی اخلاقیات کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔
اس فرق کو نہ جاننے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے گروہ سے ملے جو مسلمانوں کے خلاف باتیں کرتا ہو او ر جس کو مسلمانوں نے دشمن سمجھ لیا ہو تو مسلمان یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایسا شخص ان کے دشمنوں کا ایجنٹ ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ مثلاً ہنوستان میں کوئی شخص بھارتیہ جنتا پارٹی یا آر ایس ایس کے جلسہ میں دعوتی مقصد کے تحت جائے تب بھی مسلمان ایسے شخص کو بی جے پی کا ایجنٹ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ عین سنت رسول ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں اور کافروں کے پاس دعوتی مقصدکے تحت جاتے تھے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی شخص بظاہر دشمن ہو تب بھی اس سے دعوتی تعلق منقطع نہیں کیا جائے گا۔ البتہ محارب کے ساتھ اس وقت تک دعوتی تعلق نہیں ہوسکتا جب تک وہ عملاً حالت عرب میں ہو۔