Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16جون2000
مولانا عمیدالزماں کیرانوی اور دوسرے تین فضلا کے دیوبند ملاقات کے لیے آئے۔ ان کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ آج کل میں ’’مطالعہ حدیث‘‘ لکھ رہا ہوں۔ اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حدیث کی شرحیں تمام طور پر ناکافی ہیں۔ ان میں یا تو فنی بحثیں ہوتی ہو یا مسلکی بحثیں نہ حدیث کی جو حکمت ہے وہ ان شرحوں میں نمایاں نہیں ہوتی۔
میں نے کہا کہ حدیث کو سمجھنے کے لیے کچھ فطری اصول ہیں جن سے یہ شارحیں حدیث بظاہر ناواقف تھے۔ مثال کے طور پر ایک حدیث رسول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: قل ربی اللہ ثم استقم (کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور پھر اس پر قائم ہوجاؤ)۔ اس حدیث کو عام طو پر شارحین صرف اس کے لفظی معنی میں لیتے ہیں۔ مزید کوئی بات اگر وہ کہہ پاتے ہیں تو صرف یہ کہ وہ خوا مع اتکلم میں سے بغیر یہ بتائے ہوئے کہ یہ بیسٹ کیا ہے۔ مگر میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس میں ایک جنرل پرنسپل کو ۔۔۔۔۔۔۔ ریفرنس میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی انسان کو چاہیے کہ اس کی زندگی میں استقامت ہو۔ وہ ایک چیز کو اصول حیاتیات کے طور پر اختیار کرے۔ اور پھر ہر حال میں اور ہر مرحلہ میں اس اصول پر جمارہے۔