Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12اگست2000
سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: انما شعاء العی السوال (مشکوٰۃ المصابیح166/1)یعنی بے خبری کا علاج پوچھا ہے۔
یہ ایک بے حد اہم تعلیم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا آغاز اپنی بے علمی کو جانا ہے۔ اور بے علمی کے مسئلہ کاحل علم والوں سے پوچھ کر اپنی بے علمی کو رفع کرنا ہے۔ میرے اندر خدا کے فضل سے پیدائشی طور پر یہ مزاج موجود ہے۔ اس معاملہ میں میرا مزاج اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ میں صرف نہیں کرتا کہ جو بات مجھے معلوم نہ ہو اس پر دوسروں سے سوال کروں۔ بلکہ جو بات بظاہرمعلوم ہوتی ہے اس پر بھی میں لوگوں سے ڈسکشن کرتا ہوں۔ سوال ایک اعتبار سے اپنی بے علمی کو رفع کرنے کا ذریعہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ اضافہ علم کا ذریعہ۔
ایک اور روایت میں ایک صحابی کہتے ہیں کہ : نفقیا عن کثرۃ السوال (جس میں کثرت سوال سے منع کیا گیا ہے) دونوں روایتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ اپنی بے علمی کودور کرنے کی بہت سے سوال کیا جائے وہ ایک رحمت ہے۔ اس کے برعکس غیر ضروری بحث کے لیے جو سوالات کے بجائیں ان کی حیثیت ایک ذہنی بیماری کی بے حسی کا کوئی فائدہ نہیں۔