Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18فروری2000
حضرت عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے جب مدینہ حجرت کرکے آئے اور وہاں یہ چرچا ہوا کہ رسول اللہ آئے ہیں جو لوگ آپ کے استقبال میں جارہے تھے ان میں میں بھی شامل ہوگیا۔ جب ہم ہم لوگ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: یاأیھا الناس اعوااسلام واطیعو الطعام وہ لم الاحام وصلّوا ماللبل والناس قیام ادخلوا الجبۃ بسلام(سنن ابن حاجہ ابواب الاطنفیہ) یعنی اے لوگو ہر ایک کو سلام کرو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو، رات کو جب سوتے ہوں تو نماز پڑھوجنت میں سلامتی سے داخل ہوجاؤگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر ایک ہنگامی سفرتھا۔ آپ انتہائی مظلوم اور ستم۔۔۔۔ حالت میں ایک مشکل سفر طے کرکے مدینہ پہنچے تھے۔ لیکن مدینہ پہنچ کر لوگوں سے پہلا خطاب کیا اس میں شکایت اور احتجاج کا کوئی ۔۔۔۔۔ تک موجود نہ تھا۔ وہ سر تاسر ایک مثبت کلام تھا۔ گویا کہ انتہائی منفی حالات میں بھی مثبت کلام کرنا پیغمبر کی ایک سنت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں نہ مسلم وصاعر کو اس کا علم ہے اور نہ مسلم اکابر کو۔